ویک اینڈ پوئٹری
ویک اینڈ پوئٹریسُرخ وائن ، فرنچ آلُو ہےزندگی کس قدر دیالو ہےچٹ پٹی میم کا نیا شوہرچوہڑ کانہ کا شیخ کُالو ہئتیری جیکٹ بلیک لیدر کیجیب میں ادھ پکا کچالو ہےگالیاں دے رہی ہے گِن گِن کریہ بڑی بی ، بہت ہی چالو ہےصرف اک بار تیرا نام لیاآج تک تلخ میرا تالو ہےوہ ترا چودھری جمال حسینجھوک ڈھڈیاں کا جمالو ہےاِس نئی آؤدی کا مالک توسانگلہ ہِل کا نائی ماہلو ہےرات ڈسکو میں رقص تھا جس کا[اِک قلندر کا سُرخ بھالو ہےسارے پٹواریوں کا شجرہ ایکہر کوئی ، ہر کسی کا خالو پےدل کی دِلّی کا مطلق العشاقراؤ مسعود گُل رسالو ہے۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔
دِل دیاں گلّاں
دِل دیاں گلّاںکوئی پینڑ دی گل نہ پِوانڑ دی گلکریں اکھیں دے وچ اکھیں پانڑ دی گلرب نہیں لدھا ، چنّاں ، کیہ کریئےچل سوچیے یار منانڑ دی گلکدی آ ویہڑے ، بیہہ کے ٹاہلی تھلےکوئی کریئے جانڑ پچھانڑ دی گلراتیں رڑے تے لوئی وِچھا لویئےنہ کر رانگلی منجی تے وانڑ دی گلبُوہا رب دا مَل کے بیہہ جاویںکریں اُٹھ کے اوتھوں نہ جانڑ دی گلپشتو مار کے چھڈے بندوق مونہوںکدی سُنریں آ کسے پٹھان دی گلادھا پھُلکا تے اُتے اچار ہووےکدی سوچیں نہ کُکڑ پکانڑ دی گلاوکھا ہوویں نہ کدی مسعود سائیںچنگی ریہندی اے کم چلانڑ دی گل۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔
پریم دی تسبی
پریم دی تسبیرب نال گلّاں کرنا میں پنجابی وچروز دعاواں منگنا میں پنجابی وچانج لگدا جیویں رب دے بُوہے بیٹھا ہاںبُک بُک ہنجو رونا میں پنجابی وچجیہڑے دُکھ میں کلّا بیہہ کے پھولدا ہاںرب اگّے اوہ دھرنا میں پنجابی وچمیریاں گلّاں سُن کے رب ہس پیندا اےپنجابی وچ اگوں مینوں کہندا اےتُوں توبہ پنجابی وچ ہی کریا کرمیں تیرے نیڑے ہاں ، توں نہ ڈریا کر۔ ۔ ۔ درویش خانقاہی ۔ ۔
مقاماتِ مسعود
مقاماتِ مسعودکُن کی گھنٹی سُن کے میرا جدِ امجد آگیاخاک میں لتھڑا ہوا وہ سوئے مسند آ گیامیں تو نیلے آسماں کی سمت تھا محوِ خرامسامنے میرے ، اچانک سبز گنبد آ گیااِس سے آگے کوئی سرحد ہی نہیں ہے علم کیاُٹھ کے دستک عرض کر بابِ محمد ؐ آ گیااُن کے بوسوں کی مہک میں لُوٹ لوں گا آج شبمیرے ہونٹوں کے ہدف میں سنگِ اسود آ گیاہاتھ میں تھامے ہوئے وہ معرفت کی لال ٹینکہکشاں کی شال اوڑھے میرا مُرشد آ گیایہ مری فردِ عمل میں اک نیا اندراج ہےکیا گناہِ عشق پھر سے ہو کے سرزد آگیااِ س حِرا کے غار میں ہی مکتبِ جبریل ہےمیں یہاں پوجا کروں گا میرا معبد آ گیامیں رہا مسعود برسوں تک الف کی راہ پرآتے آتے ہاتھ میرے رازِ ابجد آ گیا۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔
الیکشن سلیکشن
الیکشن سلیکشن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔دھریک اور نیم پر کیلے لگیں گےہمارے شہر اب بیلے لگیں گےکچھ ایسی آئیں گی تبدلیاں ابگورو جی آپ کے چیلے لگیں گےتجاوز کو تحفط دے گا آئینسیاست کے نئے ٹھیلے لگیں گےملے گا مُفت ، بے رحموں کو ہر مالنہ پیسے اور نہ اب دھیلے لگیں گےنہیں ہوگا اگر پانی تو کیا ہےپئے استنجا اب ڈھیلے لگیں گےبدل جائے کا پاکستان ، پھر سےکرپشن کے وہی میلے لگیں گےہے قربانی کا موسم سر پہ مسعودسیاست دان سب لیلے لگیں گے—
سنڈے سرگم
سنڈے سرگممحبّت کے سپیروں کی مِیوزیکل پٹاری ہےاُنہی کے کالے ناگوں کا طلسمِ دل فگاری ہےگریباں اُس حسینہ کا ، پرائے مال جیسا ہےترا یہ تاکنا اور جھانکنا چوری چِکاری ہےمحبت جنگ ہے اور جنگ میں جائز ہے بمبارییہ چھاتا فوج میں نے ہی تری چھت پر اُتاری ہےنہیں ، میں اِن دنوں اُلجھا نہیں کاکل کے پیچوں میںمجھے اب تک پرانے عشق کی گہری خُماری ہےمجھے مارا نہیں ہے آر ایس ایس کے درندوں نےسُنا ہے قتل کا آلہ تو نینوں کی کٹاری ہےمجھے لگتا ہے جیسے کھا رہا ہوں چٹ پٹے چھولےمری دلدار کی آواز بھی کتنی کراری ہےمیں اب مسعود پنجابی لُغت بھی پاس رکھتا ہوںغزل کے باب میں لفظوں کی یہ گوٹا کناری ہے۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور . . .Mythical
وضاحتیں
وضاحتیںدربدر ہو کے مُصیبت تو نہ پڑتی اپنیہجر یاروں سے ملامت تو نہ پڑتی اتنیرب کا یہ رستہ نمازوں سے جو طے ہو جاتاکم شریعت کی روایت تو نہ پڑتی اتنیزخم پر زخم نہ کھاتا یہ پرستار تراکوئے جاناں میں اذیّت تو نہ پڑتی اتنیکوئی تعبیر جو مل جاتی تسّلی کے لیےتنگ خوابوں سے طبیعت تو نہ پڑتی اتنیتوڑ کر مجھ کو بکھرنے جو نہ دیتیں تو تمہیںمجھ کو چُننے کی مشقت تو نہ پڑتی اتنیمختصر ہوتا اگر آبلہ پائی کا حصارمیرے دل کو یہ مسافت تو نہ پڑتی اتنیزندگی دے کے بھی تجھ کو نہیں پایا مسعودکاش مہنگی یہ محبت تو نہ پڑتی اتنی۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔
اذیّتِ نامہ
اذیّتِ نامہمری جان کو اُلجھنیں کھا گئیںتھکے پاؤں کو آہٹیں کھا گئیںسیاست کے کیڑے کو ٹائی سمیتوزارت زدہ مسندیں کھا گئیںمحلات دشمن ہیں کُٹیاؤں کےمُساوات کو سازشیں کھا گئیںنہ تو دوزخی ہے نہ میں دوزخیمگر شہر کو رشوتیں کھا گئیںنہیں اب وہ صادق نہیں ہے امیںکہ مومن کو دو لغزشیں کھا گئیںجو لالچ کے بندے تھے بندر ہوئےمسلمان کو خواہشیں کھا گئیںرہی بے حیائی ، بُرائی مدامکہ اسلام کو مسجدیں کھا گئیںنہ چہرے رہے اپنی اوقات میںجبینوں کو جب سلوٹیں کھا گئیںہے آموں کی کجری کو چُپ کا شراپکہ کُو کُو کا دھن کوئلیں کھا گئیںہوئی ہیرا رانجھا کی پونجی تمامکہ چُوڑی کا گُڑ نفرتیں کھا گئیںسُخن سازیاں بھی تماشا بنیںزرِ شعر کو شہرتیں کھا گئیںیہ موسم ہے مسعود پت جھڑ زدہبہاروں کا بن بُلبلیں کھا گئیں۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔
ملنگ رنگ
ملنگ رنگانھیاں اگّے نچدیاں ریہنڑاں ، ڈوریاں اَگّے گؤونانِکیاں بالاں وانگوں ہسناں پھڑ کے عشق کھِڈؤناوچ مسیتاں ، نال پریتاں ، تن دا ڈھول وگؤناپیریں بنھ چھنکدے گھنگرو رُٹھڑا رب منؤناکدی کدی سُفنے دے سیجے سوں کے سجُن لبھناںاوہنوں گلمے لا کے من دا روندا بال وِلؤنابھانڈے ٹنڈر ، گوٹے گیہنے ، بن ورتے رکھ چھڈناںاپنے گھر وچ انج ریہنا جیوں واہنڈے پِنڈ پروہنابدلاں وانگوں وسدیاں ریہناں کن من ، کن من ، کِن مِندل دریا دیاں سِپیاں دے وچ موتی روز پرؤناگوتم وانگوں چھڈ رجواڑہ ، در بدری وچ رُلناوانگ فقیراں ، پھردیاں ریہنا ، جنگل بیلے بھؤنااپنیوں چنگا یار نہ لبھے ، اپنے ورگا لبھنااوپریاں دی سنگت وچ مسعود کدی نہ پؤنا۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔
اک پرانی کہانی
اک پُرانی کہانیزمیں کو پڑھنا ، کبھی آسمان کو پڑھناہوا میں تیرتی رنگیں کمان کو پڑھناہر ایک سانس کی سیڑھی پہ رُک کے دم لینانگاہ بھر کے بدن کے مکان کو پڑھناورائے عقل ہے اُس گلعذار کا مکتوبیقین کُفر سمجھنا ، گمان کو پڑھنامدادِ گریہ سے لکھنا ورق جُدائی کےپھر اُس کے سامنے اس داستان کو پڑھنارقم ہے اُس کی ہتھیلی پہ نام کِس کِس کاحنا سے لکھے ہوئے ہر نشان کو پڑھناہتھیلیوں سے کتابِ وصال وا کرنالبوں کی آنکھ سے اُس کی زبان کو پڑھناوہ نازنین ہے اِک ان کہی کتھا مسعودحرمِ شب میں اُسی دھان پان کو پڑھنا۔ ۔ ۔ مسعود کتاب دار ۔ ۔ ۔ ۔