زمرہ: کہانیاں
مقاماتِ مسعود
مقاماتِ مسعودکُن کی گھنٹی سُن کے میرا جدِ امجد آگیاخاک میں لتھڑا ہوا وہ سوئے مسند آ گیامیں تو نیلے آسماں کی سمت تھا محوِ خرامسامنے میرے ، اچانک سبز گنبد آ گیااِس سے آگے کوئی سرحد ہی نہیں ہے علم کیاُٹھ کے دستک عرض کر بابِ محمد ؐ آ گیااُن کے بوسوں کی مہک میں لُوٹ لوں گا آج شبمیرے ہونٹوں کے ہدف میں سنگِ اسود آ گیاہاتھ میں تھامے ہوئے وہ معرفت کی لال ٹینکہکشاں کی شال اوڑھے میرا مُرشد آ گیایہ مری فردِ عمل میں اک نیا اندراج ہےکیا گناہِ عشق پھر سے ہو کے سرزد آگیااِ س حِرا کے غار میں ہی مکتبِ جبریل ہےمیں یہاں پوجا کروں گا میرا معبد آ گیامیں رہا مسعود برسوں تک الف کی راہ پرآتے آتے ہاتھ میرے رازِ ابجد آ گیا۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔
اک پرانی کہانی
اک پُرانی کہانیزمیں کو پڑھنا ، کبھی آسمان کو پڑھناہوا میں تیرتی رنگیں کمان کو پڑھناہر ایک سانس کی سیڑھی پہ رُک کے دم لینانگاہ بھر کے بدن کے مکان کو پڑھناورائے عقل ہے اُس گلعذار کا مکتوبیقین کُفر سمجھنا ، گمان کو پڑھنامدادِ گریہ سے لکھنا ورق جُدائی کےپھر اُس کے سامنے اس داستان کو پڑھنارقم ہے اُس کی ہتھیلی پہ نام کِس کِس کاحنا سے لکھے ہوئے ہر نشان کو پڑھناہتھیلیوں سے کتابِ وصال وا کرنالبوں کی آنکھ سے اُس کی زبان کو پڑھناوہ نازنین ہے اِک ان کہی کتھا مسعودحرمِ شب میں اُسی دھان پان کو پڑھنا۔ ۔ ۔ مسعود کتاب دار ۔ ۔ ۔ ۔
دکھل
رب دے نال اوہ گلّاں کردی ریہندی اےکَلّی بیٹھی نچدی گاندی ریہندی اےجندڑی عشق تے مُشک دی شوقنڑ لگدی اےپُٹھے سِدھے پنگے لیندی ریہندی اےبدلاں دی ماڑی وچ ستّاں رنگاں دیچُنّی لے کے ہسدی روندی ریہندی اےسورج دے ڈھارے وچ بیہہ کے شاماں تکچن چکور دے سُفنے گِنڑدی ریہندی اےہجر ے ہوکے بھر بھر ہنجو کیردی اےکچ دی گُڈی ٹُٹدی بھجدی ریہندی اےدُکھ دے ہاڑے ، وینڑ تے نوحے لکھ لکھ کےقلم نمانڑیں کیہ کیہ سیہندی ریہندی اےسُکھ تے چین ساہ مسعود نوں نہیں اونداجندڑی اوہدے ہتھیں پیندی ریہندی اے۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔
ستواں
ستواں۔ ۔ ۔ ۔ جے کر اس دُنیا وچ اونڑاںست واری تُوں آویںہِک واری مُڑھکے دے گھر وچہِک واری برفاں دی ٹھر وچہِک واری سکھنڑیں ڈھارے وچہک واری واڑے وچ ڈکیاں ڈھوراں دے وچچھ بالاں دا رونڑ تاں خورے تھوڑا ہوسیستویں واری آپ اُچیچا توں وی آویں۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔
از پئے حمد و نعت
مرا مُرشد جو ختم المرسلیں ﷺ ہےوہ سردار و امامِ کاملیں ہےترا جو رب ہے رب المسلمیں ہےمرا اللہ تو رب العالمیں ہےاُسی کے ہیں یہ پانچوں برِ اعظماُس کا یہ سمائے سُرمگیں ہےیہودی اور نصرانی اُسی کےاُسی کے ہیں یہ ہندو ، آفریں ہےاُسی کے حُکم سے اُتریں کتابیںوہ سب نیبوں کا ربُ الاولیں ہےاُسی کا راز ہے ختمِ نبوتازل سے تا ابد وہ آخریں ہےوہی سورج ہے اور نجم و قمر ہےاُسی کا روپ کوہِ مرمریں ہےیہ کشت و باغ اُس کا خوانِ یغماسمندر اُس سخی کا ساتگیں ہےاُسی کی ہیں زبانیں اور بیاناتیہ اُس کی حمد کتنی دل نشیں ہےکوئی ہے دیوتا اُس کا کوئی بھوتکوئی ڈائن ہے کوئی نازنیں ہےاُسی کا کھیل ہے ابلیس سازیاُسی کے سانپ ہیں اور آستیں ہےپروتا ہوں میں وہ الفاظ مسعودکہ جن میں رنگ و بُوئے یاسمیں ہے۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔
حمد
میرا رب العالمیں ہے میری شہ رگ کے قریبمیں طواف اپنا کروں تو حج کا ملتا ہے ثوابعجز سے گردن کو اپنی سات چکر جب بھی دوںآسماں دیتا ہے طاعت کا محبت سے جواب۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔