مسعود منور

زمرہ: باتیں

تلاوت

10 December 2018 Comments Off on تلاوت

تلاوتقرآنِ کریم ایک ہمہ وقتی سر چشمہ ء رشد و ہدایت ہے ، جس کے ذریعے رب اپنے بندوں سے باتیں کرتا ہے ۔ اگرچہ اسے کتابی شکل میں مدون کردیا گیا ہے مگر یہ پھر بھی خالق و مخلوق کے مابین لمحہ بہ لمحہ ہونے والی گفتگو ہے ۔ اوریہ معجزہ ہے اس زندہ کلام کا کہ میں قرآنِ کریم کے توسط سے رب سے باتیں کرتا ہوں ۔ میں سوالات کرتا ہوں بالکل ویسے ہی جیسے کوئی اپنے ذاتی دوست سے کرتا ہے یا کوئی مرید اپنے پیر سے کرتا ہے ۔میرا یوں باتیں کرنا روحانی تربیت کا سلسلہ ہے ۔ سرچشمہ ء رشد و ہدایت سے میری یہ باتیں کرنا اطاعت ہے ۔ اطاعت کے لیے اُس حکم کو سنا جاتا ہےجو نافذ ہو رہا ہو ۔ اُس حکم پر لبیک کہنا اور اُس پر عمل درامد کو یقینی بنانا تلاوت ہے ۔ خواہشِ نفس کی ماری اس دنیا میں تلاوت میرے لیے پناہ گاہ ہے ۔ تلاوت وہ امن سرا ہے جہاں ضمہر کی آواز حکمت کی روشنی میں جلا پاتی ہے جس سے منفی دلیل کی موشگافی ، جذبات کی سطحیت اور فرقہ واریت کی پریشاں فکری میرے دل پر کنفیوژن کے رکیک حملے نہیں کر پاتی کیونکہ قرآن رشد و ہدایت کا طاقت ور ترین سرچشمہ ہے ۔ یہ کوئی گوگل نہیں جو میرے سوالات کا ریڈی میڈ جواب فراہم کر سکے ۔ یہ وہ ذریعہ نہیں ہے جو منی لانڈرنگ جیسے معجزے سے کسی کے بنک اکاؤنٹ میں ڈالر بھر دے ۔ یہ سرشمہ ء ہدایت خُدا کے بندوں کو اعمال کی دنیا میں داخل کرتا ہے جہاں تغیّر و تبدل کا دریا بہتا ہے… مزید »

مایوسی کی باتیں

16 September 2017 Comments Off on مایوسی کی باتیں

 جہاں لوگ نفسیاتی غلام ، دانشور بکاؤ بکرے ، صحافی اور اینکر لفافے ، اساتذہ نقل کروانے والے مجہول اور وکیل قانون کے چھابڑی فروش ہوں وہاں حکمران ادارے ،( ایجنسیاں جو بے حس ہیں مگر حساس کہلاتی ہیں )، سیاسی اور مذہبی تاجروں سے ملی بھگت کی پالیسی پر گامزن رہتی ہیں ۔ ایسی ریاستیں قوموں کی آماجگاہ نہیں ہوتیں ، بلکہ مظلوموں کی وہ بھیڑ ہوتی ہیں ، جس کے ہاتھوں قانون کی حکمرانی دم توڑ دیتی ہے اور مذہب وفات پا جاتا ہے ۔ اس وقت وہ فلمی گیت یاد آتا ہے : جائیں تو جائیں کہاں جی ہاں ، میں مایوسی کی باتیں کرتا ہوں ۔ میں مجرم ہوں ۔ لیکن پچھلے ستر سال کی تاریخ نے مجھے اس مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ میں نے پاکستان بنتے بھی دیکھا اور ٹوٹتے بھی اور اب اس کو مقتل بنے دیکھا رہا ہوں ۔ یہ اسلامی اخلاقی قدروں کی سب سے بڑی کربلا ہے