مسعود منور

زمرہ: شاعری

الیکشن سلیکشن

6 March 2020 Comments Off on الیکشن سلیکشن

الیکشن سلیکشن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔دھریک اور نیم پر کیلے لگیں گےہمارے شہر اب بیلے لگیں گےکچھ ایسی آئیں گی تبدلیاں ابگورو جی آپ کے چیلے لگیں گےتجاوز کو تحفط دے گا آئینسیاست کے نئے ٹھیلے لگیں گےملے گا مُفت ، بے رحموں کو ہر مالنہ پیسے اور نہ اب دھیلے لگیں گےنہیں ہوگا اگر پانی تو کیا ہےپئے استنجا اب ڈھیلے لگیں گےبدل جائے کا پاکستان ، پھر سےکرپشن کے وہی میلے لگیں گےہے قربانی کا موسم سر پہ مسعودسیاست دان سب لیلے لگیں گے—

سنڈے سرگم

16 February 2020 Comments Off on سنڈے سرگم

سنڈے سرگممحبّت کے سپیروں کی مِیوزیکل پٹاری ہےاُنہی کے کالے ناگوں کا طلسمِ دل فگاری ہےگریباں اُس حسینہ کا ، پرائے مال جیسا ہےترا یہ تاکنا اور جھانکنا چوری چِکاری ہےمحبت جنگ ہے اور جنگ میں جائز ہے بمبارییہ چھاتا فوج میں نے ہی تری چھت پر اُتاری ہےنہیں ، میں اِن دنوں اُلجھا نہیں کاکل کے پیچوں میںمجھے اب تک پرانے عشق کی گہری خُماری ہےمجھے مارا نہیں ہے آر ایس ایس کے درندوں نےسُنا ہے قتل کا آلہ تو نینوں کی کٹاری ہےمجھے لگتا ہے جیسے کھا رہا ہوں چٹ پٹے چھولےمری دلدار کی آواز بھی کتنی کراری ہےمیں اب مسعود پنجابی لُغت بھی پاس رکھتا ہوںغزل کے باب میں لفظوں کی یہ گوٹا کناری ہے۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور . . .Mythical

وضاحتیں

11 February 2020 Comments Off on وضاحتیں

وضاحتیںدربدر ہو کے مُصیبت تو نہ پڑتی اپنیہجر یاروں سے ملامت تو نہ پڑتی اتنیرب کا یہ رستہ نمازوں سے جو طے ہو جاتاکم شریعت کی روایت تو نہ پڑتی اتنیزخم پر زخم نہ کھاتا یہ پرستار تراکوئے جاناں میں اذیّت تو نہ پڑتی اتنیکوئی تعبیر جو مل جاتی تسّلی کے لیےتنگ خوابوں سے طبیعت تو نہ پڑتی اتنیتوڑ کر مجھ کو بکھرنے جو نہ دیتیں تو تمہیںمجھ کو چُننے کی مشقت تو نہ پڑتی اتنیمختصر ہوتا اگر آبلہ پائی کا حصارمیرے دل کو یہ مسافت تو نہ پڑتی اتنیزندگی دے کے بھی تجھ کو نہیں پایا مسعودکاش مہنگی یہ محبت تو نہ پڑتی اتنی۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ 

اذیّتِ نامہ

10 February 2020 Comments Off on اذیّتِ نامہ

اذیّتِ نامہمری جان کو اُلجھنیں کھا گئیںتھکے پاؤں کو آہٹیں کھا گئیںسیاست کے کیڑے کو ٹائی سمیتوزارت زدہ مسندیں کھا گئیںمحلات دشمن ہیں کُٹیاؤں کےمُساوات کو سازشیں کھا گئیںنہ تو دوزخی ہے نہ میں دوزخیمگر شہر کو رشوتیں کھا گئیںنہیں اب وہ صادق نہیں ہے امیںکہ مومن کو دو لغزشیں کھا گئیںجو لالچ کے بندے تھے بندر ہوئےمسلمان کو خواہشیں کھا گئیںرہی بے حیائی ، بُرائی مدامکہ اسلام کو مسجدیں کھا گئیںنہ چہرے رہے اپنی اوقات میںجبینوں کو جب سلوٹیں کھا گئیںہے آموں کی کجری کو چُپ کا شراپکہ کُو کُو کا دھن کوئلیں کھا گئیںہوئی ہیرا رانجھا کی پونجی تمامکہ چُوڑی کا گُڑ نفرتیں کھا گئیںسُخن سازیاں بھی تماشا بنیںزرِ شعر کو شہرتیں کھا گئیںیہ موسم ہے مسعود پت جھڑ زدہبہاروں کا بن بُلبلیں کھا گئیں۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔

خواہشیں کیا کیا

21 July 2019 Comments Off on خواہشیں کیا کیا

خواہشیں کیا کیاعمر بھر ایک سا کب ، علم و ادب چاہتا ہوںاپنی تردید میں کردیتا ہوں جب چاہتا ہوںمجھ کو ڈس لیتے ہیں اعمال مجھے اِن سے بچامیں تو پڑھنے کے لیے صرف کُتب چاہتا ہوںمیکدے میں مجھے دفناؤ گے اعزاز سے تمبعد مرنے کے بھی پب اور کلب چاہتا ہوںرہنے کو قصرِ شہی ، سیوا کو حور و غلمانجو بھی جنّت میں ملا کرتا ہے سب چاہتا ہوںفتنہ ء عشق ہو یا شادی سی بربادی ہوتجھ سے ملنے کا کوئی ایک سبب چاہتا ہوںخواہشِ نفس کی شدت سے ہوں میں سوختہ جاںجتنی جلدی ہو ترے عارض و لب چاہتا ہوںمطمئن وعدہ ء ف ردا پہ کہاں ہو مسعودکل نہیں ، آج نہیں ، تجھ کو میں اب چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔

دیباچہ ء ہجر

26 June 2019 Comments Off on دیباچہ ء ہجر

دیباچہ ء ہجرجہاں نورد ہوں ، میرا وطن نہیں کوئیسوائے حمد و ثنا پاس دھن نہیں کوئیزبانِ اشک میں آنکھوں سے بات کرتا ہوںبجز سکوت لبوں پر سُخن نہیں کوئیمیں خاک زاد ہوں ، مٹّی کے ساتھ مٹّی ہوںمرے نصیب میں تن اور من نہیں کوئیحرا میں لکھا گیا وہ زمین کا آئینخُدا کی بات ہے تخمین و ظن نہیں کوئیتری فقہ ، تری تفسیر اور ترے خُطبےریا و کبر کا ناٹک ہیں فن نہیں کوئیفقط پرانے فسانے ہیں ، ورنہ اِس یُگ میںاویس کوئی نہیں اور قرن نہیں کوئیعطا کیا ہے خُدا نے مجھے مہاجر کیمپزمیں پہ جس سے نرالا چمن نہیں کوئیمیں اوسلو کی ردا میں پنہ گزین ہواکہ ناروے سے نرالا سجن نہیں کوئیقلم کی نوک سے مسعود کاٹتا ہوں پہاڑخُدا کا مجھ سے کھرا کوہکن نہیں کوئی۔ ۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔۔۔ جون ، اوسلو۱۹۸۴

ازرہِ التفات ۔

6 May 2019 Comments Off on ازرہِ التفات ۔

ازرہِ التفات ۔ ۔ ۔لا ، مرے کشکول میں دل ڈال دےہے سخی ، دریا میں ساحل ڈال دےحشر اٹھے گا جو میں نکلا کہیںتو مری چوکھٹ پہ منزل ڈال دےہجر بھی اِک رقص ہے اے ہم بدن!ہجر کے پاؤں میں پائل ڈال دےلے ، بچھڑنے کا گجر بجنے لگاناقہ ء فرقت پہ محمل ڈال دےمسندیں خالی ہیں اہلِ علم کیخیر سے دو چار جاہل ڈال دےتم سے یہ کس نے کہا تھا اے فلک!ہر نگر میں فتنہ ء گِل ڈال دےاِس طرف مسعود ، مُلّا اُس طرفبیچ میں اب کوئی کامل ڈال دے

یہ نوائے صبح گاہی

20 January 2019 Comments Off on یہ نوائے صبح گاہی

یہ نوائے صبح گاہییہ گُل رُخاں مجھے بہرِ ثواب دیکھتے ہیںشبوں کو نیند میں میرے ہی خواب دیکھتے ہیںمیں حرف و صوت کا مجذوب ہوں مگر پھر بھیوہ آنکھ بھر کے مجھے بے حساب دیکھتے ہیںوہ میکدے کے دریچے میں بیٹھ کر شب بھرلبوں کے کُنج میں بھر کر شراب دیکھتے ہیں میں جب بھی پاس سے گزروں تو عاکفانِ حرممیں آدمی ہوں کہ کوئی کتاب ، دیکھتے ہیںشکار کرتا ہوں شب کو میں جب ستارا کوئیتو مجھ کو دور سے سارے عقاب دیکھتے ہیںمری جودلقِ دریدہ ہے اُس کو حسرت سےتمام شہر کے دولت مآب دیکھتے ہیںیہ کون باغ میں اُترا ہے دیکھنا مسعود بڑے ہی عجز سے جس کو گلاب دیکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔

شکوہ ء آسمان کرتے ہیں

12 December 2018 Comments Off on شکوہ ء آسمان کرتے ہیں

شکوہ ء آسمان کرتے ہیںشورِ آہ و فُغان کرتے ہیںفیس بُک کی فراق بستی میںہجر کے دُکھ بیان کرتے ہیںاور کچھ لوگ اس خرابے میں شاعری کی دُکان کرتے ہیںلفظ و معنی کی فوج کے جرنیللشکروں کی کمان کرتے ہیںباعثِ شرم ہے زمیں کے لیےظُلم جو حکمران کرتے ہیںپچھلے ستر برس کی ظلمت کیہم رقم ، داستان کرتے ہیںعرش تک کے سفر میں ہم مسعودذکر کو نُردبان کرتے ہیں۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔

حمد

10 December 2018 Comments Off on حمد

میرا رب العالمیں ہے میری شہ رگ کے قریبمیں طواف اپنا کروں تو حج کا ملتا ہے ثوابعجز سے گردن کو اپنی سات چکر جب بھی دوںآسماں دیتا ہے طاعت کا محبت سے جواب۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔