ماہ: September 2017
مایوسی کی باتیں
جہاں لوگ نفسیاتی غلام ، دانشور بکاؤ بکرے ، صحافی اور اینکر لفافے ، اساتذہ نقل کروانے والے مجہول اور وکیل قانون کے چھابڑی فروش ہوں وہاں حکمران ادارے ،( ایجنسیاں جو بے حس ہیں مگر حساس کہلاتی ہیں )، سیاسی اور مذہبی تاجروں سے ملی بھگت کی پالیسی پر گامزن رہتی ہیں ۔ ایسی ریاستیں قوموں کی آماجگاہ نہیں ہوتیں ، بلکہ مظلوموں کی وہ بھیڑ ہوتی ہیں ، جس کے ہاتھوں قانون کی حکمرانی دم توڑ دیتی ہے اور مذہب وفات پا جاتا ہے ۔ اس وقت وہ فلمی گیت یاد آتا ہے : جائیں تو جائیں کہاں جی ہاں ، میں مایوسی کی باتیں کرتا ہوں ۔ میں مجرم ہوں ۔ لیکن پچھلے ستر سال کی تاریخ نے مجھے اس مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ میں نے پاکستان بنتے بھی دیکھا اور ٹوٹتے بھی اور اب اس کو مقتل بنے دیکھا رہا ہوں ۔ یہ اسلامی اخلاقی قدروں کی سب سے بڑی کربلا ہے
بالآخر ۔ ۔ ۔
اُس نے مجھ کو اور میں نے اُس کو سیدھا کردیا آسماں ہنستا رہا ہم پر ، کہ یہ کیا کردیا سامنے ، اپنی اَنا کے بُت تھے جب وقتِ صلوٰۃ بُت کدے کا نام مسجد رکھ کے سجدہ کردیا حُکم کا بندہ ہوں رہتا ہوں خُدا کے حُکم میں جیسا جیسا رب نے چاہا ، ویسا ویسا کردیا نفس کے جتنے تھے بل ، میں نے نکالے عجز سے کُتے کی دُم کو بڑی محنت سے سیدھا کردیا معجزہ مجھ کو عطا ، اسمِ محبت سے ہوا میں نے مُردہ دل کو دیکھو ، کیسے زندہ کر دیا یہ تو اُس بُت کی مسیحائی تھی جس نے دفعتاؔ آنکھ کے لیزر سے مجھ روگی کو اچھا کردیا مُجھ کو اُس فن کار سے مسعود ہے ربطِ خفی جس نے ساگر کو لپیٹا اور قطرہ کردیا ۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔
کس کو ہے کس سے محبت ، کون کس کا یار ہے
کس کو ہے کس سے محبت ، کون کس کا یار ہے زندگی اب ، اجنبی لوگوں کا اک تہوار ہے شاعروں کی غزلیہ اوقات ، مت پوچھو میاں شاعری کا شور ، نفرت کا عذاب النار ہے کتنی اُلجھن ہو رہی ہے کس قدر بے چین ہوں تیری گپ شپ سے تہی یہ تیسرا اتوار ہے خالی ہے ساغر اُداسی کا کفن پہنے ہوئے اور تنہائی کا ساتھی ، شام کا اخبار ہے تیری صحبت کی وہ دستاویز تھی سب سے الگ تجھ کو کھو کر سب کتابوں سے یہ دل بیزار ہے جان کھا جاتے ہیں ٹی وی کے یہ باسی اشتہار ایسا لگتا ہے کہ سارا میڈیا بیمار ہے تو نے جو وعدے کیے مسعود سے وہ کیا ہوئے سچ بتاؤں تو بھی میری جان کا آزار ہے ۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔