مسعود منور

ماہ: April 2018

مینارِ پاکستان کی لوحوں پر رقم میرا، ا شک نامہ

25 April 2018 Comments Off on مینارِ پاکستان کی لوحوں پر رقم میرا، ا شک نامہ

مینارِ پاکستان کی لوحوں پر رقم میرا، ا شک نامہ ۲۳ مارچ کی باز گشت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عجیب باغوں کی سر زمیں ہے جسے میرے خواب سینچتے ہیں یہ خواب صحرا کی گلبدن داستاں سراؤں کی فاختائیں یہ منجمد فاختائیں ، جیسے حنوط لمحوں کے زرد تابوت زرد سورج کی نیلی بارش میں کانپتے ہیں یہ باغ گوتم کے گیان کی روشنی کے برگد یہ قافلوں کے شرار آثار گھڑ سواروں کی برق رفتار یورشوں میں گھرے ہوئے ہیں یہ باغ اِس عہد کے اندھیروں کے سُرخ باغی ہیں جن کے نعروں سے آسمانوں میں جا بجا در سے بن گئے ہیں یہ باغ یلغار بستیاں ہیں جہاں کے شہری ، غبارِ صحرا میں مورچوں کی مسہریوں پر ، تمام شب یوں گزارتے ہیں کہ جیسے اصحابِ کہف نیندوں کے معبدوں میں تلاوت و ذکر کر رہے ہوں یہ باغ زیرِ زمیں گھروں کے عجیب پر پیچ سلسلے ہیں یہ گھر ہیں جن کی چھتوں ، مُنڈیروں پہ کالے بارود کے دھوئیں کی سیاہ بیلیں چڑھی ہوئی ہیں یہاں دھماکوں کے پھول کھلتے ہیں چار جانب ، بموں کے گملوں میں موت کی ناز بُو مہکتی ہے جھاڑیوں سے صدائیں اآتی ہیں اے زمیں زاد آفتابوں کی نسلِ تازہ یہ قتل و غارت گری تو دھرتی کا کینسر ہے دیارِ پنجاب اور سندھ کے مکینو! میرے بلوچو ، میرے پٹھانو! میں دہشتوں کے کڑے سفر میں تمہارا برسوں سے ہم سفر ہوں میں دلقِ “لا تفسدو” میں لپٹا تمام رستوں میں جل رہا ہوں میں خانہ جنگی میں مبتلا بستیوں کا زائر میں نفسا نفسی کا بوڑھا قیدی… مزید »