ماہ: May 2018
غزل
زندگی کی کتاب پیش کرو شاعرو ! اپنے خواب پیش کرو حشر کا سائرن بجا کہ بجا عمر بھر کا حساب پیش کرو لاؤ سب اپنی اپنی فردِ عمل اپنا اپنا جواب پیش کرو کس نے کیا کھویا کس نے کیا پایا دشتِ جاں کے سراب پیش کرو چشم و مژگاں کے بادہ خانے سے اپنی اپنی شراب پیش کرو سب کو محبوب ہی سمجھ کے ملو سب کو دل کا گلاب پیش کرو رب کے در پر دھمال میں مسعود رقصِ چنگ و رباب پیش کرو ، ، ، مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔