ماہ: December 2018
شکوہ ء آسمان کرتے ہیں
شکوہ ء آسمان کرتے ہیںشورِ آہ و فُغان کرتے ہیںفیس بُک کی فراق بستی میںہجر کے دُکھ بیان کرتے ہیںاور کچھ لوگ اس خرابے میں شاعری کی دُکان کرتے ہیںلفظ و معنی کی فوج کے جرنیللشکروں کی کمان کرتے ہیںباعثِ شرم ہے زمیں کے لیےظُلم جو حکمران کرتے ہیںپچھلے ستر برس کی ظلمت کیہم رقم ، داستان کرتے ہیںعرش تک کے سفر میں ہم مسعودذکر کو نُردبان کرتے ہیں۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔
تلاوت
تلاوتقرآنِ کریم ایک ہمہ وقتی سر چشمہ ء رشد و ہدایت ہے ، جس کے ذریعے رب اپنے بندوں سے باتیں کرتا ہے ۔ اگرچہ اسے کتابی شکل میں مدون کردیا گیا ہے مگر یہ پھر بھی خالق و مخلوق کے مابین لمحہ بہ لمحہ ہونے والی گفتگو ہے ۔ اوریہ معجزہ ہے اس زندہ کلام کا کہ میں قرآنِ کریم کے توسط سے رب سے باتیں کرتا ہوں ۔ میں سوالات کرتا ہوں بالکل ویسے ہی جیسے کوئی اپنے ذاتی دوست سے کرتا ہے یا کوئی مرید اپنے پیر سے کرتا ہے ۔میرا یوں باتیں کرنا روحانی تربیت کا سلسلہ ہے ۔ سرچشمہ ء رشد و ہدایت سے میری یہ باتیں کرنا اطاعت ہے ۔ اطاعت کے لیے اُس حکم کو سنا جاتا ہےجو نافذ ہو رہا ہو ۔ اُس حکم پر لبیک کہنا اور اُس پر عمل درامد کو یقینی بنانا تلاوت ہے ۔ خواہشِ نفس کی ماری اس دنیا میں تلاوت میرے لیے پناہ گاہ ہے ۔ تلاوت وہ امن سرا ہے جہاں ضمہر کی آواز حکمت کی روشنی میں جلا پاتی ہے جس سے منفی دلیل کی موشگافی ، جذبات کی سطحیت اور فرقہ واریت کی پریشاں فکری میرے دل پر کنفیوژن کے رکیک حملے نہیں کر پاتی کیونکہ قرآن رشد و ہدایت کا طاقت ور ترین سرچشمہ ہے ۔ یہ کوئی گوگل نہیں جو میرے سوالات کا ریڈی میڈ جواب فراہم کر سکے ۔ یہ وہ ذریعہ نہیں ہے جو منی لانڈرنگ جیسے معجزے سے کسی کے بنک اکاؤنٹ میں ڈالر بھر دے ۔ یہ سرشمہ ء ہدایت خُدا کے بندوں کو اعمال کی دنیا میں داخل کرتا ہے جہاں تغیّر و تبدل کا دریا بہتا ہے… مزید »
بِلوری اکھ دا قصیدہ
۔ ۔ ۔ ۔ لمّی نظم ” کُڑی الکُڑیات ” دا اک بند ۔ ۔ ۔ ۔تیریاں بُلھیاں ، چن دا نخرہتیری اکھ دا موسم وکھراتیرا پنڈا کنک دا سونامیں سونے دا ہار پروناموتیے دے پھُلاں دی ٹاہنیتُوں امبیاں دے باغ دی رانیزُلفاں وچوں تیریاں گلھاںکالے ہڑ وچ رت دیاں چھلاںتیری وینڑیں دے وچ ونگاںرب کولوں میں ہور کیہ منگاںونگاں چھن چھن چھنکی جاونلنگھیاں ویلا یاد کراونہائے ہائے گلھاں دے وچ ٹوئیاںتیری نتھ تے صدقے ہوئیاںتیرا روپ سروپ غضب داایہہ لمبو کسے ٹھنڈی اَگ داتیرا میوہ مٹھا لگداایہہ سُفناں مینوں ڈِٹھا لگداتوں کُڑی الکُڑیات ایں میریتوں سدھراں دی رات ایں میری۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔
حمد
میرا رب العالمیں ہے میری شہ رگ کے قریبمیں طواف اپنا کروں تو حج کا ملتا ہے ثوابعجز سے گردن کو اپنی سات چکر جب بھی دوںآسماں دیتا ہے طاعت کا محبت سے جواب۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔
حمد
میرا رب العالمیں ہے میری شہ رگ کے قریبمیں طواف اپنا کروں تو حج کا ملتا ہے ثوابعجز سے گردن کو اپنی سات چکر جب بھی دوںآسماں دیتا ہے طاعت کا محبت سے جواب۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔