ماہ: January 2019
یہ نوائے صبح گاہی
یہ نوائے صبح گاہییہ گُل رُخاں مجھے بہرِ ثواب دیکھتے ہیںشبوں کو نیند میں میرے ہی خواب دیکھتے ہیںمیں حرف و صوت کا مجذوب ہوں مگر پھر بھیوہ آنکھ بھر کے مجھے بے حساب دیکھتے ہیںوہ میکدے کے دریچے میں بیٹھ کر شب بھرلبوں کے کُنج میں بھر کر شراب دیکھتے ہیں میں جب بھی پاس سے گزروں تو عاکفانِ حرممیں آدمی ہوں کہ کوئی کتاب ، دیکھتے ہیںشکار کرتا ہوں شب کو میں جب ستارا کوئیتو مجھ کو دور سے سارے عقاب دیکھتے ہیںمری جودلقِ دریدہ ہے اُس کو حسرت سےتمام شہر کے دولت مآب دیکھتے ہیںیہ کون باغ میں اُترا ہے دیکھنا مسعود بڑے ہی عجز سے جس کو گلاب دیکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔