ماہ: July 2019
خواہشیں کیا کیا
خواہشیں کیا کیاعمر بھر ایک سا کب ، علم و ادب چاہتا ہوںاپنی تردید میں کردیتا ہوں جب چاہتا ہوںمجھ کو ڈس لیتے ہیں اعمال مجھے اِن سے بچامیں تو پڑھنے کے لیے صرف کُتب چاہتا ہوںمیکدے میں مجھے دفناؤ گے اعزاز سے تمبعد مرنے کے بھی پب اور کلب چاہتا ہوںرہنے کو قصرِ شہی ، سیوا کو حور و غلمانجو بھی جنّت میں ملا کرتا ہے سب چاہتا ہوںفتنہ ء عشق ہو یا شادی سی بربادی ہوتجھ سے ملنے کا کوئی ایک سبب چاہتا ہوںخواہشِ نفس کی شدت سے ہوں میں سوختہ جاںجتنی جلدی ہو ترے عارض و لب چاہتا ہوںمطمئن وعدہ ء ف ردا پہ کہاں ہو مسعودکل نہیں ، آج نہیں ، تجھ کو میں اب چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔