مسعود منور

ماہ: February 2020

سنڈے سرگم

16 February 2020 Comments Off on سنڈے سرگم

سنڈے سرگممحبّت کے سپیروں کی مِیوزیکل پٹاری ہےاُنہی کے کالے ناگوں کا طلسمِ دل فگاری ہےگریباں اُس حسینہ کا ، پرائے مال جیسا ہےترا یہ تاکنا اور جھانکنا چوری چِکاری ہےمحبت جنگ ہے اور جنگ میں جائز ہے بمبارییہ چھاتا فوج میں نے ہی تری چھت پر اُتاری ہےنہیں ، میں اِن دنوں اُلجھا نہیں کاکل کے پیچوں میںمجھے اب تک پرانے عشق کی گہری خُماری ہےمجھے مارا نہیں ہے آر ایس ایس کے درندوں نےسُنا ہے قتل کا آلہ تو نینوں کی کٹاری ہےمجھے لگتا ہے جیسے کھا رہا ہوں چٹ پٹے چھولےمری دلدار کی آواز بھی کتنی کراری ہےمیں اب مسعود پنجابی لُغت بھی پاس رکھتا ہوںغزل کے باب میں لفظوں کی یہ گوٹا کناری ہے۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور . . .Mythical

وضاحتیں

11 February 2020 Comments Off on وضاحتیں

وضاحتیںدربدر ہو کے مُصیبت تو نہ پڑتی اپنیہجر یاروں سے ملامت تو نہ پڑتی اتنیرب کا یہ رستہ نمازوں سے جو طے ہو جاتاکم شریعت کی روایت تو نہ پڑتی اتنیزخم پر زخم نہ کھاتا یہ پرستار تراکوئے جاناں میں اذیّت تو نہ پڑتی اتنیکوئی تعبیر جو مل جاتی تسّلی کے لیےتنگ خوابوں سے طبیعت تو نہ پڑتی اتنیتوڑ کر مجھ کو بکھرنے جو نہ دیتیں تو تمہیںمجھ کو چُننے کی مشقت تو نہ پڑتی اتنیمختصر ہوتا اگر آبلہ پائی کا حصارمیرے دل کو یہ مسافت تو نہ پڑتی اتنیزندگی دے کے بھی تجھ کو نہیں پایا مسعودکاش مہنگی یہ محبت تو نہ پڑتی اتنی۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ 

اذیّتِ نامہ

10 February 2020 Comments Off on اذیّتِ نامہ

اذیّتِ نامہمری جان کو اُلجھنیں کھا گئیںتھکے پاؤں کو آہٹیں کھا گئیںسیاست کے کیڑے کو ٹائی سمیتوزارت زدہ مسندیں کھا گئیںمحلات دشمن ہیں کُٹیاؤں کےمُساوات کو سازشیں کھا گئیںنہ تو دوزخی ہے نہ میں دوزخیمگر شہر کو رشوتیں کھا گئیںنہیں اب وہ صادق نہیں ہے امیںکہ مومن کو دو لغزشیں کھا گئیںجو لالچ کے بندے تھے بندر ہوئےمسلمان کو خواہشیں کھا گئیںرہی بے حیائی ، بُرائی مدامکہ اسلام کو مسجدیں کھا گئیںنہ چہرے رہے اپنی اوقات میںجبینوں کو جب سلوٹیں کھا گئیںہے آموں کی کجری کو چُپ کا شراپکہ کُو کُو کا دھن کوئلیں کھا گئیںہوئی ہیرا رانجھا کی پونجی تمامکہ چُوڑی کا گُڑ نفرتیں کھا گئیںسُخن سازیاں بھی تماشا بنیںزرِ شعر کو شہرتیں کھا گئیںیہ موسم ہے مسعود پت جھڑ زدہبہاروں کا بن بُلبلیں کھا گئیں۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔

ملنگ رنگ

3 February 2020 Comments Off on ملنگ رنگ

ملنگ رنگانھیاں اگّے نچدیاں ریہنڑاں ، ڈوریاں اَگّے گؤونانِکیاں بالاں وانگوں ہسناں پھڑ کے عشق کھِڈؤناوچ مسیتاں ، نال پریتاں ، تن دا ڈھول وگؤناپیریں بنھ چھنکدے گھنگرو رُٹھڑا رب منؤناکدی کدی سُفنے دے سیجے سوں کے سجُن لبھناںاوہنوں گلمے لا کے من دا روندا بال وِلؤنابھانڈے ٹنڈر ، گوٹے گیہنے ، بن ورتے رکھ چھڈناںاپنے گھر وچ انج ریہنا جیوں واہنڈے پِنڈ پروہنابدلاں وانگوں وسدیاں ریہناں کن من ، کن من ، کِن مِندل دریا دیاں سِپیاں دے وچ موتی روز پرؤناگوتم وانگوں چھڈ رجواڑہ ، در بدری وچ رُلناوانگ فقیراں ، پھردیاں ریہنا ، جنگل بیلے بھؤنااپنیوں چنگا یار نہ لبھے ، اپنے ورگا لبھنااوپریاں دی سنگت وچ مسعود کدی نہ پؤنا۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔