مقاماتِ مسعود
کُن کی گھنٹی سُن کے میرا جدِ امجد آگیا
خاک میں لتھڑا ہوا وہ سوئے مسند آ گیا
میں تو نیلے آسماں کی سمت تھا محوِ خرام
سامنے میرے ، اچانک سبز گنبد آ گیا
اِس سے آگے کوئی سرحد ہی نہیں ہے علم کی
اُٹھ کے دستک عرض کر بابِ محمد ؐ آ گیا
اُن کے بوسوں کی مہک میں لُوٹ لوں گا آج شب
میرے ہونٹوں کے ہدف میں سنگِ اسود آ گیا
ہاتھ میں تھامے ہوئے وہ معرفت کی لال ٹین
کہکشاں کی شال اوڑھے میرا مُرشد آ گیا
یہ مری فردِ عمل میں اک نیا اندراج ہے
کیا گناہِ عشق پھر سے ہو کے سرزد آگیا
اِ س حِرا کے غار میں ہی مکتبِ جبریل ہے
میں یہاں پوجا کروں گا میرا معبد آ گیا
میں رہا مسعود برسوں تک الف کی راہ پر
آتے آتے ہاتھ میرے رازِ ابجد آ گیا
۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔
1 تبصرہ برائے “مقاماتِ مسعود”
Comments are closed.
Wah sir ji wah