مسعود منور

اک پرانی کہانی

27 August 2019
Comments Off on اک پرانی کہانی

اک پُرانی کہانی
زمیں کو پڑھنا ، کبھی آسمان کو پڑھنا
ہوا میں تیرتی رنگیں کمان کو پڑھنا
ہر ایک سانس کی سیڑھی پہ رُک کے دم لینا
نگاہ بھر کے بدن کے مکان کو پڑھنا
ورائے عقل ہے اُس گلعذار کا مکتوب
یقین کُفر سمجھنا ، گمان کو پڑھنا
مدادِ گریہ سے لکھنا ورق جُدائی کے
پھر اُس کے سامنے اس داستان کو پڑھنا
رقم ہے اُس کی ہتھیلی پہ نام کِس کِس کا
حنا سے لکھے ہوئے ہر نشان کو پڑھنا
ہتھیلیوں سے کتابِ وصال وا کرنا
لبوں کی آنکھ سے اُس کی زبان کو پڑھنا
وہ نازنین ہے اِک ان کہی کتھا مسعود
حرمِ شب میں اُسی دھان پان کو پڑھنا
۔ ۔ ۔ مسعود کتاب دار ۔ ۔ ۔ ۔