اذیّتِ نامہ
مری جان کو اُلجھنیں کھا گئیں
تھکے پاؤں کو آہٹیں کھا گئیں
سیاست کے کیڑے کو ٹائی سمیت
وزارت زدہ مسندیں کھا گئیں
محلات دشمن ہیں کُٹیاؤں کے
مُساوات کو سازشیں کھا گئیں
نہ تو دوزخی ہے نہ میں دوزخی
مگر شہر کو رشوتیں کھا گئیں
نہیں اب وہ صادق نہیں ہے امیں
کہ مومن کو دو لغزشیں کھا گئیں
جو لالچ کے بندے تھے بندر ہوئے
مسلمان کو خواہشیں کھا گئیں
رہی بے حیائی ، بُرائی مدام
کہ اسلام کو مسجدیں کھا گئیں
نہ چہرے رہے اپنی اوقات میں
جبینوں کو جب سلوٹیں کھا گئیں
ہے آموں کی کجری کو چُپ کا شراپ
کہ کُو کُو کا دھن کوئلیں کھا گئیں
ہوئی ہیرا رانجھا کی پونجی تمام
کہ چُوڑی کا گُڑ نفرتیں کھا گئیں
سُخن سازیاں بھی تماشا بنیں
زرِ شعر کو شہرتیں کھا گئیں
یہ موسم ہے مسعود پت جھڑ زدہ
بہاروں کا بن بُلبلیں کھا گئیں
۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔