مسعود منور

وضاحتیں

11 February 2020
Comments Off on وضاحتیں

وضاحتیں
دربدر ہو کے مُصیبت تو نہ پڑتی اپنی
ہجر یاروں سے ملامت تو نہ پڑتی اتنی
رب کا یہ رستہ نمازوں سے جو طے ہو جاتا
کم شریعت کی روایت تو نہ پڑتی اتنی
زخم پر زخم نہ کھاتا یہ پرستار ترا
کوئے جاناں میں اذیّت تو نہ پڑتی اتنی
کوئی تعبیر جو مل جاتی تسّلی کے لیے
تنگ خوابوں سے طبیعت تو نہ پڑتی اتنی
توڑ کر مجھ کو بکھرنے جو نہ دیتیں تو تمہیں
مجھ کو چُننے کی مشقت تو نہ پڑتی اتنی
مختصر ہوتا اگر آبلہ پائی کا حصار
میرے دل کو یہ مسافت تو نہ پڑتی اتنی
زندگی دے کے بھی تجھ کو نہیں پایا مسعود
کاش مہنگی یہ محبت تو نہ پڑتی اتنی
۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔