سنڈے سرگم
محبّت کے سپیروں کی مِیوزیکل پٹاری ہے
اُنہی کے کالے ناگوں کا طلسمِ دل فگاری ہے
گریباں اُس حسینہ کا ، پرائے مال جیسا ہے
ترا یہ تاکنا اور جھانکنا چوری چِکاری ہے
محبت جنگ ہے اور جنگ میں جائز ہے بمباری
یہ چھاتا فوج میں نے ہی تری چھت پر اُتاری ہے
نہیں ، میں اِن دنوں اُلجھا نہیں کاکل کے پیچوں میں
مجھے اب تک پرانے عشق کی گہری خُماری ہے
مجھے مارا نہیں ہے آر ایس ایس کے درندوں نے
سُنا ہے قتل کا آلہ تو نینوں کی کٹاری ہے
مجھے لگتا ہے جیسے کھا رہا ہوں چٹ پٹے چھولے
مری دلدار کی آواز بھی کتنی کراری ہے
میں اب مسعود پنجابی لُغت بھی پاس رکھتا ہوں
غزل کے باب میں لفظوں کی یہ گوٹا کناری ہے
۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور . . .
Mythical