مسعود منور

خواہشیں کیا کیا

21 July 2019 شاعری Comments Off on خواہشیں کیا کیا

خواہشیں کیا کیاعمر بھر ایک سا کب ، علم و ادب چاہتا ہوںاپنی تردید میں کردیتا ہوں جب چاہتا ہوںمجھ کو ڈس لیتے ہیں اعمال مجھے اِن سے بچامیں تو پڑھنے کے لیے صرف کُتب چاہتا ہوںمیکدے میں مجھے دفناؤ گے اعزاز سے تمبعد مرنے کے بھی پب اور کلب چاہتا ہوںرہنے کو قصرِ شہی ، سیوا کو حور و غلمانجو بھی جنّت میں ملا کرتا ہے سب چاہتا ہوںفتنہ ء عشق ہو یا شادی سی بربادی ہوتجھ سے ملنے کا کوئی ایک سبب چاہتا ہوںخواہشِ نفس کی شدت سے ہوں میں سوختہ جاںجتنی جلدی ہو ترے عارض و لب چاہتا ہوںمطمئن وعدہ ء ف ردا پہ کہاں ہو مسعودکل نہیں ، آج نہیں ، تجھ کو میں اب چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔

وچلی گل

27 June 2019 شاعری ۔ Comments Off on وچلی گل

وِچلی گلملوانڑاں تے مُلحد دونویں ، ہک دوجے دی کاپیہِک کتابی جاہل ، دوجا پگڑ دھاری پاپیدونویں ویہلے ، گلّیں باتیں ، نِم تے چڑھے کریلےہِک چُکیا اے کُفر دا سوٹا ، دوجا حرف دا جاپیملحد ہٹ ہٹ ٹکراں مارے مُلّاں دے بُوہے نوںملاں کھلا مسیت کریندا رب نوں مُٹھی چاپیجیہدے سچ نوں من کے لوکی چھڈ جاون بُریائیایہو جہی کتاب کسے وی اج تائیں نہ چھاپیکل مسعود نِمانڑے آکھیا راہ وچ ڈک کے مینوںپھک نہ ایہہ تبلیغی پھکّی ، گھر جا کے کجھ کھا پی۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔

دیباچہ ء ہجر

26 June 2019 شاعری Comments Off on دیباچہ ء ہجر

دیباچہ ء ہجرجہاں نورد ہوں ، میرا وطن نہیں کوئیسوائے حمد و ثنا پاس دھن نہیں کوئیزبانِ اشک میں آنکھوں سے بات کرتا ہوںبجز سکوت لبوں پر سُخن نہیں کوئیمیں خاک زاد ہوں ، مٹّی کے ساتھ مٹّی ہوںمرے نصیب میں تن اور من نہیں کوئیحرا میں لکھا گیا وہ زمین کا آئینخُدا کی بات ہے تخمین و ظن نہیں کوئیتری فقہ ، تری تفسیر اور ترے خُطبےریا و کبر کا ناٹک ہیں فن نہیں کوئیفقط پرانے فسانے ہیں ، ورنہ اِس یُگ میںاویس کوئی نہیں اور قرن نہیں کوئیعطا کیا ہے خُدا نے مجھے مہاجر کیمپزمیں پہ جس سے نرالا چمن نہیں کوئیمیں اوسلو کی ردا میں پنہ گزین ہواکہ ناروے سے نرالا سجن نہیں کوئیقلم کی نوک سے مسعود کاٹتا ہوں پہاڑخُدا کا مجھ سے کھرا کوہکن نہیں کوئی۔ ۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔۔۔ جون ، اوسلو۱۹۸۴

دکھل

23 June 2019 کہانیاں Comments Off on دکھل

رب دے نال اوہ گلّاں کردی ریہندی اےکَلّی بیٹھی نچدی گاندی ریہندی اےجندڑی عشق تے مُشک دی شوقنڑ لگدی اےپُٹھے سِدھے پنگے لیندی ریہندی اےبدلاں دی ماڑی وچ ستّاں رنگاں دیچُنّی لے کے ہسدی روندی ریہندی اےسورج دے ڈھارے وچ بیہہ کے شاماں تکچن چکور دے سُفنے گِنڑدی ریہندی اےہجر ے ہوکے بھر بھر ہنجو کیردی اےکچ دی گُڈی ٹُٹدی بھجدی ریہندی اےدُکھ دے ہاڑے ، وینڑ تے نوحے لکھ لکھ کےقلم نمانڑیں کیہ کیہ سیہندی ریہندی اےسُکھ تے چین ساہ مسعود نوں نہیں اونداجندڑی اوہدے ہتھیں پیندی ریہندی اے۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔

ازرہِ التفات ۔

6 May 2019 شاعری Comments Off on ازرہِ التفات ۔

ازرہِ التفات ۔ ۔ ۔لا ، مرے کشکول میں دل ڈال دےہے سخی ، دریا میں ساحل ڈال دےحشر اٹھے گا جو میں نکلا کہیںتو مری چوکھٹ پہ منزل ڈال دےہجر بھی اِک رقص ہے اے ہم بدن!ہجر کے پاؤں میں پائل ڈال دےلے ، بچھڑنے کا گجر بجنے لگاناقہ ء فرقت پہ محمل ڈال دےمسندیں خالی ہیں اہلِ علم کیخیر سے دو چار جاہل ڈال دےتم سے یہ کس نے کہا تھا اے فلک!ہر نگر میں فتنہ ء گِل ڈال دےاِس طرف مسعود ، مُلّا اُس طرفبیچ میں اب کوئی کامل ڈال دے

ستواں

6 May 2019 کہانیاں Comments Off on ستواں

ستواں۔ ۔ ۔ ۔ جے کر اس دُنیا وچ اونڑاںست واری تُوں آویںہِک واری مُڑھکے دے گھر وچہِک واری برفاں دی ٹھر وچہِک واری سکھنڑیں ڈھارے وچہک واری واڑے وچ ڈکیاں ڈھوراں دے وچچھ بالاں دا رونڑ تاں خورے تھوڑا ہوسیستویں واری آپ اُچیچا توں وی آویں۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔

از پئے حمد و نعت

5 February 2019 کہانیاں Comments Off on از پئے حمد و نعت

مرا مُرشد جو ختم المرسلیں ﷺ ہےوہ سردار و امامِ کاملیں ہےترا جو رب ہے رب المسلمیں ہےمرا اللہ تو رب العالمیں ہےاُسی کے ہیں یہ پانچوں برِ اعظماُس کا یہ سمائے سُرمگیں ہےیہودی اور نصرانی اُسی کےاُسی کے ہیں یہ ہندو ، آفریں ہےاُسی کے حُکم سے اُتریں کتابیںوہ سب نیبوں کا ربُ الاولیں ہےاُسی کا راز ہے ختمِ نبوتازل سے تا ابد وہ آخریں ہےوہی سورج ہے اور نجم و قمر ہےاُسی کا روپ کوہِ مرمریں ہےیہ کشت و باغ اُس کا خوانِ یغماسمندر اُس سخی کا ساتگیں ہےاُسی کی ہیں زبانیں اور بیاناتیہ اُس کی حمد کتنی دل نشیں ہےکوئی ہے دیوتا اُس کا کوئی بھوتکوئی ڈائن ہے کوئی نازنیں ہےاُسی کا کھیل ہے ابلیس سازیاُسی کے سانپ ہیں اور آستیں ہےپروتا ہوں میں وہ الفاظ مسعودکہ جن میں رنگ و بُوئے یاسمیں ہے۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔

یہ نوائے صبح گاہی

20 January 2019 شاعری Comments Off on یہ نوائے صبح گاہی

یہ نوائے صبح گاہییہ گُل رُخاں مجھے بہرِ ثواب دیکھتے ہیںشبوں کو نیند میں میرے ہی خواب دیکھتے ہیںمیں حرف و صوت کا مجذوب ہوں مگر پھر بھیوہ آنکھ بھر کے مجھے بے حساب دیکھتے ہیںوہ میکدے کے دریچے میں بیٹھ کر شب بھرلبوں کے کُنج میں بھر کر شراب دیکھتے ہیں میں جب بھی پاس سے گزروں تو عاکفانِ حرممیں آدمی ہوں کہ کوئی کتاب ، دیکھتے ہیںشکار کرتا ہوں شب کو میں جب ستارا کوئیتو مجھ کو دور سے سارے عقاب دیکھتے ہیںمری جودلقِ دریدہ ہے اُس کو حسرت سےتمام شہر کے دولت مآب دیکھتے ہیںیہ کون باغ میں اُترا ہے دیکھنا مسعود بڑے ہی عجز سے جس کو گلاب دیکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔

شکوہ ء آسمان کرتے ہیں

12 December 2018 شاعری Comments Off on شکوہ ء آسمان کرتے ہیں

شکوہ ء آسمان کرتے ہیںشورِ آہ و فُغان کرتے ہیںفیس بُک کی فراق بستی میںہجر کے دُکھ بیان کرتے ہیںاور کچھ لوگ اس خرابے میں شاعری کی دُکان کرتے ہیںلفظ و معنی کی فوج کے جرنیللشکروں کی کمان کرتے ہیںباعثِ شرم ہے زمیں کے لیےظُلم جو حکمران کرتے ہیںپچھلے ستر برس کی ظلمت کیہم رقم ، داستان کرتے ہیںعرش تک کے سفر میں ہم مسعودذکر کو نُردبان کرتے ہیں۔ ۔ ۔ مسعود مُنّور ۔ ۔ ۔ ۔

تلاوت

10 December 2018 باتیں Comments Off on تلاوت

تلاوتقرآنِ کریم ایک ہمہ وقتی سر چشمہ ء رشد و ہدایت ہے ، جس کے ذریعے رب اپنے بندوں سے باتیں کرتا ہے ۔ اگرچہ اسے کتابی شکل میں مدون کردیا گیا ہے مگر یہ پھر بھی خالق و مخلوق کے مابین لمحہ بہ لمحہ ہونے والی گفتگو ہے ۔ اوریہ معجزہ ہے اس زندہ کلام کا کہ میں قرآنِ کریم کے توسط سے رب سے باتیں کرتا ہوں ۔ میں سوالات کرتا ہوں بالکل ویسے ہی جیسے کوئی اپنے ذاتی دوست سے کرتا ہے یا کوئی مرید اپنے پیر سے کرتا ہے ۔میرا یوں باتیں کرنا روحانی تربیت کا سلسلہ ہے ۔ سرچشمہ ء رشد و ہدایت سے میری یہ باتیں کرنا اطاعت ہے ۔ اطاعت کے لیے اُس حکم کو سنا جاتا ہےجو نافذ ہو رہا ہو ۔ اُس حکم پر لبیک کہنا اور اُس پر عمل درامد کو یقینی بنانا تلاوت ہے ۔ خواہشِ نفس کی ماری اس دنیا میں تلاوت میرے لیے پناہ گاہ ہے ۔ تلاوت وہ امن سرا ہے جہاں ضمہر کی آواز حکمت کی روشنی میں جلا پاتی ہے جس سے منفی دلیل کی موشگافی ، جذبات کی سطحیت اور فرقہ واریت کی پریشاں فکری میرے دل پر کنفیوژن کے رکیک حملے نہیں کر پاتی کیونکہ قرآن رشد و ہدایت کا طاقت ور ترین سرچشمہ ہے ۔ یہ کوئی گوگل نہیں جو میرے سوالات کا ریڈی میڈ جواب فراہم کر سکے ۔ یہ وہ ذریعہ نہیں ہے جو منی لانڈرنگ جیسے معجزے سے کسی کے بنک اکاؤنٹ میں ڈالر بھر دے ۔ یہ سرشمہ ء ہدایت خُدا کے بندوں کو اعمال کی دنیا میں داخل کرتا ہے جہاں تغیّر و تبدل کا دریا بہتا ہے… مزید »